11 جنوری 2014 - 20:30
نوري مالکي: عراق ميں دہشتگردوں کے خلاف آپريشن کي حمايت

عراق کے وزير اعظم نے اعلان کيا ہے کہ وہ ملک سے دہشت گردي کا صفايا کرکے ہي دم ليں گے- اسي کے ساتھ ملک کے اندر اور بين الاقوامي سطح پر، بغداد حکومت اور تکفيري دہشتگردوں کے خلاف فوجي آپريشن کي حمايت ميں اضافہ ہوگيا ہے.

ابنا: عراقي وزير ا‏‏عظم نوري مالکي نے دہشت گردوں کے خلاف فوج کے آپريشن کو جاري رکھنے کے عزم کا اعلان کرتے ہوئے ملک کي سبھي سياسي جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف حکومتي اقدامات اور کاروائيوں کي حمايت کريں -عراقي وزير ا‏عظم نے بغداد ميں ايک پروگرام کے دوران جو دہشت گردوں کےخلاف فوج کي کاميابيوں کو خراج تحسين پيش کرنے کے لئےمنعقد کيا گيا تھا کہا کہ مغربي صوبے الانبار ميں دہشت گردوں کے خلاف فوج کا آپريشن درحقيقت دہشت گردوں کے خلاف عراق کے سبھي گروہوں اور اقوام  کي جنگ ہے- انہوں نے کہا کہ اس بات کے پيش نظر کہ  سبھي سياسي جماعتوں، قبائل اور  حکومتي اداروں کو  چاہئے وہ الانبار صوبےميں دہشت گردوں کے خلاف جاري فوجي آپريشن کي حمايت کريں-عراق کے وزير اعظم نے اس ملک کے بعض سياستدانوں پر جو دہشت گردوں کي حمايت کرتے ہيں تنقيد کرتے ہيں کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائي کا سياست يا انتخابي موضوعات سے کوئي ربط نہيں ہے - انھوں نے کہا کہ  يہاں معاملہ ملک کي سالميت کے تحفظ اور بقا کا ہے، اس لئے سبھي گروہوں اور سياسي شخصيات کو چاہئے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ايک ہوجائيں- عراقي فوج نے گذشتہ اکيس دسمبر سے ملک کے عوام اور بيشتر سياسي جماعتوں کي تائيد و حمايت سے صوبہ الانبار ميں دہشت گردوں کے خلاف  آپريشن شروع کر رکھا ہے -   اس دوران اقوام متحدہ ميں عراق کے نمائندے نے بھي  کہا ہے کہ عراق ميں دہشت گردي کے خلاف فوج کي کاروائي جاري رہے گياقوام متحدہ ميں عراق کے مستقل مندوب محمد علي الحکيم نے صوبہ الانبار ميں دہشت گردوں کي مذمت ميں اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل کےبيان کا خير مقدم کرتے ہوئے  کہا کہ عراقي فوج پوري قوت کے ساتھ  دہشت گردوں سے نمٹے گي اور دولت الاسلاميہ في العراق والشام نامي دہشت گرد گروہ کي شکست درحقيقت پورے خطےميں دہشت گردوں کي شکست کا آغاز ہوگا -اقوام متحدہ ميں عراقي مندوب  محمد علي الحکيم نے کہا کہ دہشت گردي ايک بين الاقوامي لعنت و مصيبت ہے جس کو نابود کرنے کے لئےسب کو ايک ہونے کي ضرورت ہے- انہوں نے کہاکہ اس سلسلےميں بين الاقوامي سطح پر کوششوں کو تيز کرنا ضروري ہے - عراقي وزير خارجہ نے بھي کہا ہے کہ صوبہ الانبار کا بحران فوجي طاقت کے استعمال  کے ساتھ ساتھ سياسي طريقے سے حل کيا جانا چاہئے - عراقي وزير خارجہ نے  صوبہ الانبار ميں دہشت گردوں کا صفايا کرنے کے لئے فوجي آپريشن اور اس ميں حاصل ہونےوالي کاميابيوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد تنظيميں عراق اور علاقے کے ملکوں کے لئے سنگين خطرہ ہيں - انہوں نے کہا کہ عراقي حکومت ہي ملک ميں امن و سلامتي کےقيام کي ذمہ دار ہے - اس دوران عراقي کردستان کي مقامي انتظاميہ کے سربراہ مسعود بارزاني نے بھي ايک  امريکي وفد سے ملاقات ميں کہا ہے  کہ صوبہ الانبار ميں دہشت گردوں سے پوري قوت کے ساتھ نمٹا جائےگا اور اس بحران کو حل کرنے کے لئے فوجي آپريش جاري رہے گا -مسعود بارزاني نے بارہا کہا ہے کہ القاعدہ نے  نہ صرف عراق بلکہ پورے علاقے کو نشانہ بنا رکھا ہے-

.....

/169